Sunday, March 8, 2015

حج کی فضیلت

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰه عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُوْلُ مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفَثْ وَلَمْ يَفْسِقْ رَجَعَ کَيوْمٍ وَلَدَتْه‘ اُمُّه‘.
(البخاری، کتاب المناسک : ج 1، ص : 306)
’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کہ جس شخص نے اللہ کی رضا کے لیے حج کیا اور جماع و فحش باتوں سے اجتناب کیا اور نافرمانی یا گناہ کا ارتکاب نہ کیا تو حج کرکے اس دن کی طرح گناہوں سے پاک گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔،،
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ من مَلَکَ زَاداً وَرَاحِلَةً تَبْلُغُه‘ اِلیٰ بَيْتِ اللّٰهِ وَلَمْ يَحُجِّ فلَاَ عَلَيْهِ اَنْ يَّمُوْتَ يَهُوْدِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًا. رَوَاهُ الْتِّرْمَذِیْ.
(المشکٰوۃ۔ کتاب المناسک، ص : 222)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص حج پر جانے کے خرچہ اور بیت اللہ تک پہنچانے والی سواری کا مالک ہو اور حج ادا نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا۔،،
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مَنْ لَّمْ يَمْنَعْه‘ مِنَ الْحَجِّ حَاجَّةٌ ظَاهِرَةٌ اَوْ سُلْطَانٌ جَاِبرٌ اَوْ مَرْضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ اِنْ شَاءَ يَهُوْدِياًّ وَّاِنْ شَاءَ نَصْرَانِياًّ رواه الدارمی.
(المشکٰوۃ۔ کتاب المناسک، ص : 222)
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو کوئی ظاہری ضرورت یا ظالم بادشاہ یا روکنے والی بیماری حج پر جانے سے رکاوٹ نہ بنے، پھر وہ حج کئے بغیر مر جائے تو وہ چاہے یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر مرے۔،،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
اِنَّه‘ قَالَ اَلْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللّٰهِ اِنْ دَعَوْه‘ اَجَابَهُمْ وَاِنِ اسْتَغْفَرُوْه‘ غَفَرَ لَهُمْ.
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کی جماعت ہیں۔ اگر یہ لوگ اللہ سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اگر اللہ سے مغفرت مانگیں تو وہ انہیں معاف فرما دیتا ہے۔،،