Sunday, March 8, 2015

اعلانِ حج

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ رب العزت نے حکم فرمایا۔
وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍO لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ.
(الحج 22 : 27)
’’اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہوجائیں گے وہ دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں تاکہ وہ اپنے فوائد (بھی) پائیں اور (قربانی کے) مقررہ دنوں کے اندر اللہ نے جو مویشی چوپائے ان کو بخشے ہیں ان پر (ذبح کے وقت) اللہ کے نام کا ذکر بھی کریں،،۔ (ترجمہ عرفان القرآن)
چنانچہ آپ جبل ابی قبیس پر تشریف لے گئے اور حج کا اعلان فرما دیا۔ جو لوگ ا بھی پیدا نہیں ہوئے تھے،ان تک بھی یہ آواز پہنچی اور انہوں نے بھی اس اعلان کو سن کر لبیک اللھم لبیک کہا۔ جس نے دعوت ابراہیمی پر لبیک کہی اسے ہی حج کی سعادت نصیب ہو گی اور جتنی بار جس نے لبیک کہی اتنی بار وہ حج کرے گا۔