Sunday, March 8, 2015

حقیقتِ کعبہ اور حکمتِ طواف

بیت المقدس کے رہنے والے ایک شخص نے امام زین العابدین سے طواف کعبہ کے دوران کعبہ کی حقیقت اور اس کے طواف کی حکمت کے بارے سوال پوچھنا چاہا تو آپ نے طواف کے بعد حطیم میں میزابِ رحمت کے نیچے اسے اپنے پاس بٹھا کر ارشاد فرمایا :
’’سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے نورانی فرشتوں سے کائنات نور آباد تھی جو فرمانبردار اور عبادت گزار مخلوق ہے۔ جن کے بارے میں قرآن حکیم نے فرمایا :
لاَّ يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَO
(التحریم 66 : 6)
’’وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام انجام دیتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔،،
اللہ رب العزت نے جب ملائکہ سے فرمایا :
إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
(البقرۃ 2 : 30)
’’بے شک میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔،،
توفرشتے عرض کرنے لگے :
أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُّفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ
(البقرۃ 2 : 30)
’’اے باری تعالیٰ! کیا تو زمین میں کسی ایسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خون ریزی کرے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (ہمہ وقت) پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔،،
یہ بات ان کے منہ سے نکل گئی مگر انہیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے ’’عرشِ علا،، کے گرد طواف کرنے لگے۔ ان کی زبان پر ایک ہی دعا تھی کہ تو پاک ہے ہماری خطا معاف فرما دے۔
معبودِ برحق کو ان کی یہ ادا پسند آئی۔ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازتے ہوئے عرش کی سیدھ میں نیچے ساتویں آسمان پر ایک گھر پیدا فرمایا اور فرشتوں کو حکم فرمایا کہ وہ اس کا طواف کریں تو ان کی خطا معاف کر دی جائے گی۔ اس گھر کا نام ’’بیت المعمور،، رکھا گیا یعنی ایسا گھر جو فرشتوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے بیت المعمور کے بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا :
هوَ مَسْجِدٌ فِیْ السَّمَآءِ حُرْمَتُه‘ کَحُرْمَةِ الْبَيْتِ فِیْ الْاَرْضِ يُصَلِّیْ فِيْهِ کُلَّ يَوْمٍ سَبْعُوْنَ اَلْفاً مِّنَ الْمَلَائِکَةِ لاَ يَعُوْدُوْنَ اِلَيْهِ اَبَدًا.
(البدایۃ والنھایۃ 1 : 41)
’’وہ آسمان میں ایک مسجد ہے۔ اس کی حرمت و عزت آسمانوں میں اسی طرح ہے جس طرح بیت اللہ کی حرمت و عزت زمین پر ہے۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں نماز کے لیے آتے ہیں۔ جو ایک بار آ جائیں پھر انہیں دوبارہ آنا نصیب نہیں ہوتا۔،،
عرش الٰہی اور بیت المعمور کا طواف ایک منفرد عبادت تھی، اس لیے قدرت کو منظور ہوا کہ زمین پر بھی ایک ایسا ہی گھر بنایا جائے جس کو اللہ کا گھر ہونے کا شرف حاصل ہو اور وہ زمین پر پہلا گھر ہو جسے عبادت کے لیے بنایا جائے۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے فرشتوں سے فرمایا :
اِبْنُوْالِیْ بَيْتًا فِی الْاَرْضِ يَتَعَوَّذُ بِه مَنْ سَخَطْتُّ عَلَيْهِ مِنْ بنی اٰدَمَ وَيَطُوْفُ حَوْلَه‘ کَمَا طُفْتُمْ حَوْلَ عَرْشِیْ فَاَرْضٰی عَنْهُمْ کَمَا رَضِيْتُ عَنْکُمْ فَبَنَوْا هٰذَا الْبَيْت.
(تاریخ الحرمین : 106)
’’میرے لیے زمین پر بھی ایک گھر بناؤ تاکہ جب میں اولادِ آدم میں سے کسی سے ناراض ہو جاؤں تو وہ اس کی پناہ لے سکے اور جس طرح تم نے میرے گھر کا طواف کیا تھا، وہ اس کا طواف کر سکے۔ تب میں اس سے راضی ہو جاؤں گا جس طرح تم سے راضی ہوا تھا۔،،
چنانچہ فرشتوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور ’’البیت المعمور،، کی سیدھ میں زمین پر ’’بیت اللہ،، تعمیر کیا۔
فرشتوں کا معمول تھا کہ وہ ’’البیت المعمور،، کے طواف سے فارغ ہو کر ستر ہزار کی تعداد میں کعبۃ اللہ کی زیارت کے لیے آتے اور اس کا طواف کرتے۔ انہیں اس بیت اللہ کے طواف کی حکمت یہ بیان کی گئی کہ جب انسان زمین پر آباد ہوں گے اور گناہ کریں گے تو یہ کعبہ ان کی بخشش کا سبب بنے گا۔ جو گنہگار بھی آ کر کعبہ کا طواف کرے گا اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا جس طرح فرشتوں سے راضی ہوا تھا۔
گویا رحمت خداوندی نے انسانوں کے لیے ان کی پیدائش سے بھی پہلے گناہوں کی بخشش کا سامان پیدا فرمایا۔ جس طرح انسان کی پیدائش سے پہلے اس کی ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی شکل میں مادی خوراک کا پہلے ہی انتظام فرما دیتا ہے۔ اسی طرح کعبہ معظمہ کی شکل میں انسان کی روحانی خوراک اور گناہوں کی مغفرت کا انتظام فرما دیا۔