سورج غروب ہو جانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کئے بغیر عرفات سے نکل کر مزدلفہ آئیں اور وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھیں۔ مزدلفہ میں پہنچ کر ایک پہاڑی ’’مشعر حرام،، کے قریب رات گزارنا افضل ہے یا مزدلفہ میں کسی بھی جگہ ٹھہر سکتے ہیں۔ یہ رات بہت فضیلت والی ہے، اس لیے عبادت میں گزارنے کی کوشش کرے۔ لیکن تھکاوٹ کی وجہ سے سونا بھی سنت ہے۔
عرفات کے میدان میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کے گناہ گاروں کی بخشش کی دعا فرمائی۔ جو ظالم کے سوا باقی سب کے حق میں قبول ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی :
اِنْ شِئْتَ اَعْطَيتَ المظلومَ الْجَنَّةَ وغَفَرْتَ الظالِمَ.
’’یا اللہ! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے دے اور ظالم کو معاف فرما دے۔،،
مگر اس کا کوئی جواب نہ ملا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں پھر یہی دعا فرمائی جو قبول فرما لی گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ جب صبح صادق ہو جائے تو نماز فجر با جماعت ادا کرے اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ میں وقوف یعنی ٹھہرنے کی نیت کرنا واجب ہے۔ مزدلفہ کے میدان سے 7 چھوٹے چھوٹے سنگریزے چن کر اچھی طرح دھو کر اپنے پاس رکھ لے جو منٰی میں شیطانوں کو مارنے کے کام آتے ہیں۔